1

دھات چاٹ کر آگے بڑھنے والا ’بے دماغ‘ روبوٹ

تصویر میں پنسلوانیا یونیورسٹی کا تیارکردہ روبوٹ دکھائی دے رہا ہے جو دھات چاٹ کر آگے بڑھتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ: جامعہ پنسلوانیا

تصویر میں پنسلوانیا یونیورسٹی کا تیارکردہ روبوٹ دکھائی دے رہا ہے جو دھات چاٹ کر آگے بڑھتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ: جامعہ پنسلوانیا

پنسلوانیا: جب بھی کوئی چھوٹا متحرک روبوٹ تیار کیا جاتا ہے، اس میں بیٹری کا مسئلہ ضرور آڑے آتا ہے کیونکہ بھاری بیٹریاں اس کی کارکردگی متاثر کرتی ہیں۔ اب ایک ایسا روبوٹ بنایا گیا ہے جو باقاعدہ کسی دماغ سے عاری ہے اور دھات کھا کر توانائی بناتا ہے۔

پنسلوانیا یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے جیمز پائکل اور ان کے ساتھیوں نے بغیر بیٹری کا روبوٹ بنایا ہے۔ یہ روبوٹ ’اینوائرونمنٹلی کنٹرولڈ وولٹیج‘ یا ای سی وی طریقے سے توانائی بناتا ہے۔ اس میں کیمیائی بندوں کے ٹوٹنے اور بننے سے بجلی بنتی ہے۔ جوں ہی یہ دھاتی سطح کو چھوتا ہے، اس میں موجود ای سی وی اطراف کی ہوا کوآکسیڈیشن کے عمل سے گزارتا ہے اور آزاد الیکٹرون روبوٹ کو بجلی دیتے ہیں۔

ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ انٹیلی جنٹ سسٹمز‘‘ میں شائع تحقیق کے مطابق، یہ روبوٹ کسی کمپیوٹر کے بغیر اپنے ماحول میں چلتا پھرتا ہے۔ اس کے پہیے ای سی وی سے آگے بڑھتے ہیں۔ اس میں ایسا نظام ہے کہ یہ خود دھاتی راہ پر چل پڑتا ہے اور اسے چاٹتا ہوا اپنی توانائی بناتا رہتا ہے۔

روبوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ کسی مرکزی دماغ یا پروسیسر نہ ہونے کے باوجود یہ کام کرسکتا ہے۔ اس سے قبل ہم قدرت کے کارخانے میں دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بیکٹیریا ’کیموٹوکسِس‘ عمل سے ازخود اپنی غذا کی طرف دوڑے جاتے ہیں۔ اسی طرز پر ای سی وی روبوٹ بنایا گیا ہے۔

فی الحال یہ روبوٹ المونیئم کی پتری سے بنائے ہوئے راستے پر چلتا جاتا ہے اور ای سی وی بجلی بناتا رہتا ہے۔ روبوٹ کسی زبان کی طرح ایلمونیئم کو چاٹتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سادہ ایجاد بہت سی تبدیلیوں کی بنیاد بن سکے گی۔ ایسے روبوٹ بیٹریوں سے بے نیاز ہوکر بہت مشکل ماحول میں اپنے کام سرانجام دے سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں