1

عُمرنے”ویکسین شیمنگ”کےبعد معافی مانگ لی

گزشتہ دنوں عمر کی مقررہ حد کوپورا نہ کرنے کے باجود کرونا سے بچاوکی ویکسین لگوانے والی اداکارہ عفت عمر نے معاملہ واضح کیے بغیر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگی ہے۔

گزشتہ ماہ کے اختتام پرایک ویڈیو سوشل میڈیا پرخوب وائرل ہوئی تھی جس میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ کے گھرپر ان کی فیملی کے ہمراہ عفت عمر کو بھی کرونا ویکسین لگواتے ہوئے دیکھا گیا تھا، ویڈیو میں نظرآنے والوں کی عمرحکومت  جانب سے ویکسین لگوانے کی مقرہ حد (60 سال ) سے کم ہونے پرسوشل میڈیا پرانہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

وفاقی وزیر کے خاندان کے کم عمرافرادکے ویکسین لگوانے پر سوشل میڈیا صارفین نے اسے” سیاسی اثر و رسوخ” کہا ، اداکارہ کیلئے کہا گیا کہ وہ وہ نہ پیرا میڈیکل اسٹاف ہیں ،نہ 60 سالہ بزرگ لیکن مفت میں ویکسین لگوا کر مستحق عوام کا حق مار رہی ہیں۔

دوسری جانب تنقید کے بعد عفت عمر نے اکہا تھا کہ لگوائی گئی ویکسین آزمائشی پروگرام کا حصہ تھی ، اس لیے تنقید بلاجواز ہے۔ لیکن بعد ازاں بعد ازاں انہوں نے اپنی پوسٹس ڈیلیٹ کردی تھیں۔

حالیہ ٹویٹ میں عفت عمرنے لکھا کہ وہ معذرت خواہ اور شرمندہ ہیں، دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتی ہیں اور توبہ بھی کریں گی۔

اگرچہ عفت نے ندامت تو ظاہرکی لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ معافی کس حوالے سے مانگ رہی ہیں تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اپنے تبصروں میں ان کی معافی کو کرونا ویکسین کے تناظرمیں ہی لیا۔

ایک صارف نے تو اداکارہ کو براہ راست یہ مشورہ تک دے ڈالا کہ ” 21 روز بعد دوسری ڈوز لگوائیں کیونکہ پہلی ڈوزکے بعد یہ لازمی ہے”۔

جواب میں اداکارہ نے صرف ” نہیں ” لکھ کرواضح کیا کہ وہ ایسا نہیں کریں گی۔

واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں ابتدائی طور پر 60 سال سے زائد عمر کے افراد اورفرنٹ لائن ورکرزکو ویکسین لگائی گئی اور اب دوسرے مرحلے میں 50 سال سے زائد عمر والوں کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے تاہم نجی اسپتالوں میں عمرکی تفریق کیے بغیرویکیسن لگائی جارہی ہے۔