2

مفتی سلیم اللہ پر فائرنگ کا مقدمہ درج

Mufti Saleem

فائل فوٹو

کراچی کے علاقے ایم پی آر کالونی میں مفتی سلیم اللہ پر فائرنگ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں نامعلوم ملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔

فائرنگ کا مقدمہ مفتی سلیم اللہ کے چھوٹے بھائی کی مدعیت میں اورنگی ٹاؤن تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کردی گئی ہے جس کے بعد ذمے داروں کا تعین ہوسکے گا۔

درج ایف آئی آر کے مطابق مفتی سلیم اللہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ان کے بڑے بھائی کا نہ کسی سیاسی اور مذہبی جماعت سے تعلق ہے اور نہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی ہے۔

مدعی کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد 2 تھی، جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ حملہ آوروں نے آتشی اسلحہ سے گاڑی میں موجود مفتی سلیم اللہ پر فائرنگ کی۔

واضح رہے کہ فائرنگ کا واقعہ گزشتہ روز 31 مارچ دوپہر کو ایم پی آر کالونی میں پیش آیا تھا جہاں پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے عربیہ سلیم اکیڈمی کے مہتمم کی گاڑی پر فائرنگ کرکے انہیں زخمی کر دیا تھا۔ حملے کے وقت مفتی سلیم اللّٰہ کی اہلیہ بھی اور مدرسے کی استانی بھی گاڑی میں موجود تھیں، تاہم وہ محفوظ رہیں۔

حملے کے بعد مفتی سلیم اللہ کو ضیا الدین اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے جس میں دیکھا گیا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے مفتی کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ملزمان نے دو گولیاں چلائیں، تاہم جائے وقوعہ سے گولی کا کوئی خول نہیں ملا۔

ايک عینی شاہد نے بتايا کہ ملزمان کے پیچھے گلی کے آوارہ کتے پڑ گئے تھے، جس پر ملزمان نے ايک کتے کو بھی گولی مار دی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مفتی سلیم اللہ منگھو پیر میں عربیہ اسلامیہ کے نام سے مدرسہ چلاتے ہیں جبکہ زمین کی خرید و فروخت کا بھی کام کرتے ہیں۔