1

خادم حسین رضوی کے انتقال کے پیچھے چھپی کہانی سامنے آگئی!موت سے قبل انکے آخری الفاظ کیا تھے؟ سُن کر دِل رو پڑے گا

لاہور(نیوز ڈیسک) مولانا خادم رضوی نے مشکل ترین حالات میں بھی تحریک چلائی، دھرنے بھی دیے، حالیہ دھرنے میں شرکت سے قبل ہی انکی طبیعت پہلے سے ہی کافی ناساز تھی۔ 92 نیوز کے مطابق خادم حسین رضوی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے بھی دھرنے میںش رکت کرنے کے لیے پہنچے ،

اس حوالے سے رانا عظیم کا کہنا ہے کہ میرا انکا تعلق ان سے صحافیوں جیسا نہیں تھا میں انکا شاگرد تھا، میرا اننکے ساتھ تعلق تاحیات رہے گا، خادم حسین رضوی نے جب تحریک شروع کی لیکن لوگ اس میں جوک در جوک شامل ہوتے گئے پھر ایک وقت آیا کہ وہ پاکستان کی ایک ایسی جماعت بن گئے جسے کا مقصد صرف مذہبی تھا، لوگ خود چل کر انکے پاس آنے لگے ، اپنے پلے سے پیسا خرچ کرتے تھے ، لوگ کھانے اور دیگر انتظامات خود ہی کیا کرتے تھے۔ آخری وقت میں جب انہوں نے یہ کمپین شروع کی تو کراچی سے واپسی پھر پشاور، پھر لاہور جب گئے تو انکی طبیعت بہت خراب تھی لیکن انہوں نے اپنی صحت کا بالکل بھی خیال نہیں کیا، وہ اپنے مقصد کو پوا کرنے کے لیے صبح سے شام تک لوگوں سے ملتے رہتے تھے، مختلف جگہوں پر جاتے تھے اور خود دیکھتے تھے معمالات کو، اس دوران کئی دفعہ انہیں صحت کا کہا گیا لیکن وہ ایک ہی بات کہتے تھے کہ اللہ نے جو مجھے ذمہ داری دی ہے میری کوشش ہے کہ میں اسے پورا کر سکوں۔ رانا عظیم کا کہنا تھا کہ جب وہ آخری دفعہ اسلام آباد دھرنے میں پہنچے تو اس وقت انکو 103 بخار تھا جو بھی ان سے ہاتھ ملاتا تھا اسے محسوس ہوجاتا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ شدید بیماری کی وجہ سے وہ اسلام آباد میں موجود رہے۔ آخری کارکن کی روانگی تک وہ اسلام آباد میں رہے، لاہور آتے ہی انکی طبیعت خراب تھی وہ لوگوں سے مل بھی نہیں رہے تھے۔آخری وقت میں بھی انکی زبان پر درود شریف تھا اور انہوں نے ایک ہی نعرہ بلند کیا کہ ” تاجدارِ ختم نبوت زندہ باد”۔راناعظیم کا مزید کیا کہنا تھا؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیں:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں