2

’’ فوراً قرضہ واپس کریں۔۔‘‘ جنرل باجوہ اور جنرل فیض سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کومنانے میں ناکام، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کیا نیا موڑ آنے والا ہے؟ رؤف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر صحافی اور معروف ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات گزشتہ برس انہی مہینوں میں خراب ہونا شروع ہوئے تاہم ہمیں یہ خبر بہت دیر سے ملی جب سعودی حکومت نے اپنا ایک ارب ڈالر پاکستان سے

واپس مانگ لیا۔انہوں نے کہا جب شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی شو میں یہ تاثر دیا تھا کہ اگر سعودی عرب او آئی سی کے رستے کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہیں دیتا تو ہم اس کے متوازی اسلامی ممالک کا بلاک بنا لیں گے تو ایک طوفان برپا ہوا اور تب جا کر معلوم ہوا کہ تعلقات میں بہت خرابی آ چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی اس گفتگو کے بعد سعودی عرب کے سفیر نے آرمی چیف سے اور بعد ازاں پرویز الہی سے ملاقاتیں کیں مگر انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ سے کوئی ملاقات نہیں کی۔ اس سے یہ بات سامنے آئی کہ سعودی عرب پاکستان کی سیاسی قیادت سے خفا ہے مگر اسٹیبلشمنٹ سے ان کے تعلقات قائم ہیں۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض جب سعودی عرب گئے تھے تو تعلقات میں بہتری آنے کی امید قائم ہوئی تھی کیونکہ روایتی طور پر سعودی حکومت ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ قریب ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سعودی عرب گئے تو شہزادہ محمد بن سلمان نے ان سے ملاقات نہیں کی، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سعودی حکمرانوں نے ملاقات نہ کی ہو۔واقعات کا تسلسل بیان کرتے ہوئے رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس دوران مولانا طاہر اشرفی بھی متحرک ہوئے اور سعودی عرب پہنچ گئے، یہ خبریں بھی آئیں کہ پاکستان کے چند وزراء کا جھکاؤ ایران کی طرف زیادہ ہے، سعودی

حکومت ان کے متعلق تحفظات رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دوران عمران خان نے قطر، ملائشیا اور ترکی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا ایک ٹی وی چینل شروع کرنے کی بات کی، اس نے مزید جلتی پر تیل ڈالا۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس وجہ سے شہزادہ محمد بن سلمان کو محسوس ہوا کہ پاکستان ان کے مخالف کیمپ کے قریب جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب سعودی عرب نے اپنی بقیہ رقم بھی واپس مانگ لی ہے جس سے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ تعلقات مزید خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ ادھار پر تیل ملنے والا سلسلہ بھی روک دیا گیا ہے۔رؤف کلاسرا نے کہاک ہ اب حکومت اگر یہ 2 ارب ڈالر سعودی عرب کو واپس کرتی ہے تو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوں گے بلکہ ڈالر کی قدر میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔رؤف کلاسرا کے مطابق پاکستان میں ترکی ڈرامہ ارطغرل دکھائے جانے پر بھی سعودی عرب والے بہت خفا تھے، ان کا خیال ہے ترکی اس قسم کے ڈراموں کے ذریعے اسلامی دنیا کی رہنمائی کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوں لگتا ہے پاکستان کو ارطغرل ڈرامہ 6 ارب ڈالرز میں پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جو آئل ریفائنریز لگانی تھیں، وہ بھی خواب و خیال ہو گئی ہیں۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور عمران خان کے انا کے مسائل ہیں اور شخصیات کا تصادم پاکستان کو مہنگا پڑ سکتا ہے کیونکہ اقتدار پر بیٹھے افراد کو قومی مفاد میں اپنی انا کو قربان کرنا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں