97

بریکنگ نیوز: سستی بجلی کی پیدوار کیلئے سی پیک کے تحت 2.4 ارب ڈالرز کا نیا معاہدہ طے پاگیا، قوم کو تاریخی خوشخبری سنا دی گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سی پیک کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں 1124 میگاواٹ کوہالہ پن بجلی منصوبہ پر عملدرآمد کی سمت ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے، چین کی تھری گارجز کمپنی، حکومت ِ آزاد کشمیر اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے درمیان سہ فریقی

معاہدہ طے پا گیا ہے۔ پیر کو پاور ڈویژن کے اعلامیہ کے حکومت ِپاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں کسی بھی بجلی کے نجی منصوبے میں 2.4 بلین امریکی ڈالر کی یہ سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔اس منصوبے کے ذریعے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سالانہ 5 ارب یونٹ سے زیادہ ماحول دوست اور کم لاگت بجلی فراہم کی جائے گی۔ کوہالہ کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر میں دریائے پونچھ پر واقع 102 میگاواٹ گلپور پن بجلی کے ایک اور منصوبہ نے 10 مارچ 2020ء سے تجارتی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے۔وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے 127 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پی پی آئی بی کو پن بجلی کے میدان میں مذکورہ کامیابیاں حاصل کرنے پر سراہا اور مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان پائیدار اور قابل تجدید بجلی کی لمبے عرصہ تک پیداوار کیلئے پرعزم ہے جس کیلئے مقامی کوئلہ اور پن بجلی منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی شاہ جہاں مرزا نے بورڈ کو بجلی کے جاری منصوبوں کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ مختلف زیر تکمیل بجلی کے منصوبوں کو کوویڈ۔19 کی وجہ سے اہم سنگ میل کے حصول میں تاخیر کا امکان ہے جبکہ منصوبوں کے سرمایہ کار اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے پی پی آئی بی سے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ بورڈ نے کوویڈ۔19 اور دیگر ناگزیرعوامل مفصل غور و خوض کے بعد 1124 میگاواٹ کوہالہ پن بجلی منصوبہ کو لیٹر آف سپورٹ (LOS)/ مالی امور کی تکمیل(FC) کی تاریخ میں توسیع کی اجازت دی ہے۔بورڈ نے کوویڈ۔19 بحران کے پس منظر میں مطلوبہ توسیع حاصل کرنے میں تھر کوئلے پر مبنی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو مدد فراہم کرنے پر بھی اصولی طور پر اتفاق کیا۔ پی پی آئی بی کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے بورڈ نے تمام صوبوں اور آزاد کشمیر کی اتفاق رائے سے آئی جی سی ای پی کی متعین کردہ مدت کے تناظر میں پن بجلی کے جاری منصوبوں 640 میگاواٹ محل، 450 میگاواٹ اٹھمقام اور 82.25 میگاواٹ کے ٹورٹناس ازغور کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے مذکورہ منصوبوں کے لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) میں توسیع کی بھی منظوری دی۔منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی شاہجہاں مرزا نے بورڈ کو بتایا کہ پی پی آئی بی نے پہلی بار چھوٹے پن بجلی منصوبوں پر عملدرآمد شروع کردیا ہے لہٰذا اس ضمن میں عملدرآمد کے معاہدہ (آئی ای) سمیت سکیورٹی پیکیج کے منظور شدہ معاہدوں کی بروقت فراہمی کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے پی پی آئی بی نے عملدرآمد کے معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کی بورڈ سے منظوری درکار ہے جس کا جائزہ لینے کیلئے اور بعد ازاں ای سی سی سے اس کی منظوری حاصل کرنے کیلئے بورڈ نے ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔وفاقی وزیر بجلی نے کہا کہ بجلی معاشی ترقی کا بنیادی محرک ہے جبکہ سستی بجلی معاشی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے لہٰذا حکومت معیشت کی سمت کو تبدیل کرنے کیلئے سستی بجلی پیدا کرنے پر تندہی سے کام کر رہی ہے۔

Sharing is caring!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں