2

شریف خاندان کے خلاف پاناما کیس میں پیپلز پارٹی نے کیا کردار ادا کرکے نواز شریف کو نااہل کروایا تھا ؟ رؤف کلاسرا نے شریفوں اور زر والوں کے سیاسی رومانس کے پلے کچھ نہ چھوڑا –

لاہور (ویب ڈیسک) اسلام آباد میں چند لوگ ہی ایسے بچے ہیں جنہوں نے میزبانی کی پرانی روایت برقرار رکھی ہوئی ہے۔ مہمان نوازی اور میزبانی ہر ایک کا ظرف نہیں۔ کھانا کھلانا فقیروں اور ولیوں کی روایت ہے۔غیاث الدین بلبن کے بارے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بابا فرید گنج شکرؒ کے

پاس حاضر ہوا تو بابا جی نے دیکھتے ہی کہا :تمہارے اندر ہندوستان کا بادشاہ بننے کی تڑپ ہے۔ بلبن جھک گیا اور کہا: آپ دعا فرمائیں ۔ بابا جی بولے: اللہ کے نام پر مال خرچ کرو اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرو۔بلبن نے بابا کی نصیحت پر عمل کیا اور ہندوستان کا بادشاہ بنا ۔نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے زمانوں میں لنگر خانے‘ مہمان خانے اور سرائیں بہت مشہور ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ لوگ سیانے ہوتے گئے کہ ہم کیوں دوسروں کو کھلائیں پلائیں یا اجنبی لوگوں کی میزبانی کریں ۔ یوں لنگر خانے اور مہمان خانے غائب ہوتے گئے‘ خیر اِکا دُکا لنگر خانے اب بھی چلتے ہیں ۔ ہمارے ہاں کبھی صحافی اور سیاسی ورکر میں کچھ فرق تھا ‘ وقت کے ساتھ وہ ختم ہوگیا ہے۔ جیسے اب عام آدمی یہ نہیں جان سکتا کہ پی پی پی اور نواز لیگ کے درمیان کیا فرق ہے اس طرح سیاسی ورکر اور صحافی کا فرق بھی ختم ہوگیا ہے۔دونوں پارٹیاں ہمیں برسوں ایک دوسرے کی لوٹ کی کہانیاں سناتی رہیں ۔ رحمن ملک باقاعدہ پانامہ سکینڈل میں بننے والی جے آئی ٹی میں شریف خاندان کے کیس میں گواہ کے طور پر پیش ہوئے‘ بلکہ رحمن ملک نے سب سے پہلے لندن کے فلیٹس کی تحقیقات کرا کر باقاعدہ رپورٹ شائع کی تھی۔ آج وہی پیپلز پارٹی نواز شریف اور مریم نواز کی لوٹ مار کی سب سے بڑی محافظ بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف شہباز شریف نے زرداری کو سڑکوں پر لانا تھا ‘ آج اسی آسمان کے نیچے شہباز شریف اور بلاول بھٹو اکٹھے پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ یہ وہی شہباز شریف ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ کے طور پر ایک دن بلاول بھٹو کی شریف خاندان کی لوٹ پر کہا تھا

کہ برخوردار زیادہ باتیں نہ کیا کریں اگر آپ کے باپ کی لوٹ مار ہم نے بیان کرنا شروع کی تو کسی کو منہ نہ دکھا سکیں گے۔ اب دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نعرے لگاتے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان حکومت کی کارکردگی ملاحظہ فرمائیں ‘ پچھلے سال تک پاکستان نے گیارہ لاکھ ٹن چینی یہ کہہ کر بیرون ملک بیچ دی کہ پاکستان کے پاس وافر مقدار میں چینی موجود ہے۔ یہ چینی بیچنے کیلئے عوام کی جیب سے تین ارب روپے سبسڈی بھی ان مل مالکان نے لے لی۔ اب چھ ماہ بعد پتہ چلا ہے کہ چینی لاکھوں ٹن کم پڑگئی ہے اور یوں بیرون ملک سے کروڑوں ڈالرز خرچ کر کے منگوائی جارہی ہے اور ایک دفعہ پھر سبسڈی دی جارہی ہے۔ جب چینی باہر بھیجنے کی اجازت دی گئی اس وقت ریٹ پچپن روپے فی کلوتھا اور آج ایک سو روپے سے اوپر چلا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے فرمایا تھا کہ اگرفی کلو چینی ایک روپیہ اضافہ ہو تو پانچ ارب روپے عوام کی جیب سے اضافی نکل جاتے ہیں۔ اب ایک سال میں پچاس روپے فی کلو ریٹ بڑھ گیا ہے تو اندازہ کریں ڈھائی سو ارب روپے عوام کی جیب سے نکال لیے گئے ہیں۔ ایسا کوئی ملک ہوگا جہاں مشیر تجارت کابینہ سے یہ فیصلہ کرالے کہ ملک میں چینی بہت ہوگئی ہے لہٰذا باہر بھیج دیں اور بعد میں پتہ چلے کہ سب جھوٹ تھا ‘ وہ اعدادوشمار جعلی تھے جن کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ کرایا گیا۔

اس ایک غلط فیصلے سے پاکستان اور عوام کو کتنا بڑا ڈاکہ پڑا ۔ تین ارب روپے سبسڈی ایک طرف پھر ایکسپورٹ سے چینی کی قیمت بڑھی اور اب شارٹیج کی وجہ سے سو روپے فی کلو سے اوپر چلی گئی ہے ۔ جہاں مقامی طور پر مل مالکان نے عوام کی جیب سے ڈھائی سو ارب روپے اضافی نکال لیے وہیں اب پاکستان ملین آف ڈالرز بیرون ملک سے چینی لانے پر خرچ کررہا ہے ۔ پاکستان ڈالروں میں مہنگے قرض لے رہا ہے اور وہ مہنگے ڈالرز اس چینی کی امپورٹ پر خرچ ہورہے ہیں جس بارے ہمیں پچھلے سال بتایا گیا تھا کہ ملک میں بہت وافر مقدار میں موجود ہے۔ میں نے کہا: آپ کو فکر پڑی ہے کہ یہ ملک ایک ارب ڈالرز کما سکتا ہے توکیوں نہیں کما رہا ۔ پچھلے سال ان حکمرانوں نے چینی اور گندم وافر کہہ کر باہر بھیج دی اور اس سال وہی چینی اور گندم ادھار پر لیے گئے ڈالرز دے کر واپس منگوا لی ہے ۔ اس کند ذہن اشرافیہ سے آپ یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ ایک ارب ڈالرز ٹیلی کام سیکٹر سے کما سکتے ہیں تو کیوں نہیں کماتے؟ رانا جواد کی برتھ ڈے پارٹی میں موجود اس مہمان نے میری طرف ناقابلِ یقین نظروں سے دیکھا اور بولا: واقعی ایسے ہوا ہے؟ میں نے کہا: جی ایسے ہی ہوا ہے ۔وہ بولا: مجھے یقین نہیں آتا کہ ہمارے حکمران اتنے نااہل ہوسکتے ہیں ۔ میں نے کہا: سوری آپ کی پارٹی خراب کی لیکن محترم یقین کر ہی لیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں