2

کورونا کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں7ارب ڈالر کا اضافہ

کراچی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ فوری کوششوں کےبعدمعیشت کورونا آمد کے موقع پر مستحکم ہوچکی ہے، کورونا کے باوجود زرمبادلہ ذخائر میں7ارب ڈالر اضافہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے مالی سال 19-2020 پر سالانہ معاشی رپورٹ جاری کردی ، جس میں بتایا کہ پہلے 9 ماہ کےدوران استحکام رہا، فوری کوششوں کے بعد معیشت کورونا آمد کے موقع پر مستحکم ہوچکی ہے، فروری 2020 تک معاشی پالیسیوں کے توازن ادائیگی خساروں میں نمایاں کمی ہوئی اور زرعی شعبہ اور موسمی عوامل کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ وباکےپھیلنے،لاک ڈاؤن سےمعاشی بحالی،ترقی کے مرحلے میں تعطل آیا، پاکستان میں وبا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں واضح کامیاب ہوئے، اشیا سازی، ٹرانسپورٹ اور خرید و فروخت سے متعلق سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کی ڈی پی تخمینےکےمطابق مالی سال2020میں0.4 فیصدکمی ہوئی ، وبا میں کاروباری اداروں، گھرانوں کو پالیسی تعاون فراہم کیا گیا تاہم نجی شعبے کے لیے نقل وحرکت کی پابندیوں اور رسد کا تعطل آیا۔

جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سماجی بھلائی کے جاری پروگرامز کے حجم، رسائی میں اضافہ کیا، اب تک 14.8 ملین سے زائد گھرانوں کو نقد رقوم دی گئیں، پہلی باراسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے کئی ہنگامی اجلاس کیے، تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا رہا۔

مرکزی بینک نے بتایا کہ 3ماہ کےعرصےمیں پالیسی ریٹ625بیسزپوائنٹس تک کم کیاگیا، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ری فنانس سہولت دی گئی، اسپتالوں کے لیے رعایتی ری فنانس سہولت دی گئی۔

جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کےزرمبادلہ کےذخائرمیں اضافہ دیکھاگیا،ج کوروناکےباوجودمالی سال کےدوران تقریباً7 ارب ڈالر بڑھ گئے۔

مالی سال 20 میں سرکاری قرض میں اضافہ اور جی ڈی پی کے1.1 فیصد تک محدود رہا جبکہ اوسط مہنگائی10.7 فیصد تھی جو پچھلے سال سے زیادہ تھی۔

اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2021 کے اختتام کی بھی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا مالی سال 2021 میں معاشی ترقی 1.5 فیصد سے 2.5 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ 2021 کے اختتام پر مہنگائی کی شرح 9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں